ہلیال:15/اپریل(ایس اؤنیوز)زندگی گزارے کے لئے آمدنی کا ذریعہ ہونے کے باوجود کم مدت میں زیادہ کمائی کےمقصد(لالچ)سے زائد سود کی شرح والے معاشی ادارے میں سرمایہ کاری کئے ہزاروں لوگ اپنی رقم کھوجانے کی پریشانی میں مبتلا ہیں۔صرف ہلیال تعلقہ میں 35 کروڑ روپیوں سے زیادہ رقم متعلقہ ادارے میں سرمایہ کاری کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پڑوسی ضلع دھارواڑ کے تعلقہ کلگھٹگی (اترکنڑا ضلع سرحد سے متصل مقام )کے ایک معاشی ادارے میں جن لوگوں نے خطیر رقومات کاسرمایہ لگایا ہے ان میں اکثر اساتذہ ہونے کی بات کہی جارہی ہے ، بقیہ لوگوں میں محکمہ پولس ، فاریسٹ محکمہ جیسے دیگر محکمہ جات کے سرکاری ملازمین کی کافی تعداد ہے، وہیں متعلقہ معاشی ادارے میں سرمایہ کاری کئے دیہی علاقے کے کسانوں کو دھوکے کا خدشہ ہے۔
کلگھٹگی کے متعلقہ معاشی ادارے کی طر ف سے 1لاکھ روپئے کا سرمایہ لگانے والے سرمایہ دار کوہر ماہ 6ہزار روپئے سود دیا جاتاتھا، ادارہ ایسے سرمایہ داروں کی تلاش کرکے ان سے جان پہچان بڑھانے والے ایجنٹ حضرات کو بھی 1سے %1.5کمیشن ادا کئے جانےکی ذرائع نے خبر دی ہے۔ زیادہ کمائی کی لالچ میں اساتذہ اور دیگر محکمہ جات کے ملازمین نے اپنی کمائی میں بچت کرکے رقم ، سونے کے زیورات گروی رکھ کر قرضہ سے حاصل شدہ رقم لے کر متعلقہ معاشی ادارے میں سرمایہ کاری کرنےکی تشویشناک خبر موصول ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں سے رابطہ میں رہنے والے اساتذہ اور پولس محکمہ کے ملازمین زیادہ تر کمیشن ایجنٹ کی طرح کام کئے جانے کی بات کہی جارہی ہے۔
متعلقہ ادارہ ایک فلم پروڈکشن کمپنی کی طرح اپنے تعارف پیش کرتے ہوئے شروعات میں کچھ ماہ تک سود کی رقم چک کے ذریعے رقم اداکرتی رہی ہے۔ اسی دوران جب مرکزی حکومت نے 500-1000ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کی تو اسی کو بہانہ بنا کر سود کی رقم کے ادائیگی کو روک دیا۔ گذشتہ 4مہینوں سے سود کی رقم اکاؤنٹ میں جمع نہ ہونے سے پریشان سرمایہ کار (متاثرین ) کو دن میں چاند نظر شروع ہوگیا ہے۔ دن کا چین اور رات کی نیند غائب ہے اب صرف آنکھوں میں اندھیرا ہی اندھیر ا نظر آرہاہے، سرمایہ کار ملازمین کمیشن ایجنٹ حضرات کو پیچھا کئے ہوئے ہیں کہ جناب! کسی طرح ہماری لگائی گئی رقم ہمیں واپس کریں۔ سرکاری ملازمین ہر دن میٹنگیں کرتے ہوئے رقم کیسے حاصل کی جائے سوچ بچار کررہے ہیں۔ اعداد و شمارات کی بات کریں تو ہلیال تعلقہ بھر سے 35کروڑ روپیوں سے زائد رقم متعلقہ ادارے میں سرمایہ کاری کی گئی ہےیہ تو ابتداء ہے ، دن گزرتے اس رقم میں اضافہ بھی ہوسکتاہے۔ عوامی سطح پر ہر قسم کی باتیں ہورہی ہیں ان میں سے کمیشن ایجنٹ حضرات زبردست مالدار ، جائیداد کے مالک بننے پر تعجب کا اظہار کیا جارہاہے۔ لیکن جنہوں نے جلد امیر بننے کی دھن میں اپنی گاڑھی کمائی لگائی تھی بعض ایک قرضہ جات کی رقم لے کر سرمایہ کی تھی وہ سب پریشان حال ہیں ، کہیں تو کس سے کہیں، سکھ کی جان کو دکھ کا دنبل کے مانند نہ اگلے جائے نہ نگلے جائے کی حالت میں ہیں۔ دیکھنا ہے کہ معاملہ کس طرح آگے بڑھتاہے اور کیا کیا پتہ چلتاہے۔